Thursday, 21 January 2021

نظرات على الكتب الثلاثة

1- كتاب الآثار أبي حنيفة

2- مسانيد أبي حنيفة

3- الموطأ مالك – رواية، محمد بن الحسن

الشيخ المحدث محمد عبد الرشيد النعماني ؒ

(1333هـ - 1420هـ)

تعريب                                  تحقيق و مراجعة                       

الشيخ بلال عبد الحي الحسني الندوي              الشيخ محمد عمر عثمان الندوي

Read Online

3 mb
nadwalibrary بواسطة

 

Wednesday, 11 November 2020

الهداية شرح البداية المبتدي 7/1 - الامام المرغيناني 593هـ - تحقيق، د. سائد بكداش

 

الهداية شرح بداية المبتدي 1-7

 الأمام برهان الدين علي المرغيناني ؒ

(511هـ  - 593هـ)

تحقيق -  د. سائد بكداش

Read Online

المجلد الأول   -   المجلد الثاني  -   المجلد الثالث  -   المجلد الرابع  -   المجلد الخامس   -  المجلد السادس   -  المجلد السابع

الغلاف  -  المجلد الأول - المجلد الثاني - المجلد الثالث - المجلد الرابع - المجلد الخامس - المجلد السادس - المجلد السابع

15mb        15mb         14mb         16mb          15mb        14mb        25mb        1mb


complete book in zip file

114 mb  

 بواسطة اخواننا الموقع المشكاة

أنا فقط أضف الغلاف الكتاب وربط الملفات بالغلاف

كتاب كامختصر تعارف

اس کے مصنف امام علی مرغینانیؒ بہت بڑے فقیہ تھے اور بہت متقی تھے اور اس کتاب کی تصنیف انہوں نے روزہ کی حالت میں کی ۔
اور بڑے محدث بھی تھے ۔ انہوں نے اپنے شیوخ کو ایک جزء میں جمع بھی کیا، جس سے جواہر المضیہ فی طبقات الحنفیہ کے مصنف حافظ عبد القادر القرشیؒ 775ھ نے بہت کچھ نقل کیا۔
انہوں نے جامع صغیر امام محمد بن الحسن الشیبانیؒ ، اورمختصر القدوریؒ کو سامنے رکھ کر اور کچھ زوائد شامل کر کہ ایک متن تیار کیا اور اس کا نام بدایۃ المبتدی رکھا، پھر اس کی طویل شرح کی ۷۰ جلدوں کے لگ بھگ کفایۃ المنتہی کے نام سے ۔یہ شرح مفقود ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں ، کیا کچھ علوم ہوں گے اس میں ۔ بہرحال پھر اس شرح کا اختصار ہدایۃ کے نام سے کیا جو آفاق میں مشہور ہے ۔
ہدایہ کا تعارف کرانا تو سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے ۔
یہ تعارف دراصل موجودہ طباعت کا ہے ۔
یہ ہماری معلومات کے مطابق سب سے محقق نسخہ ہے جس کو ڈاکٹر سائد بکداش نے 20 سے زیادہ نسخوں کو سامنے رکھ کر تحقیق کیا ہے ۔اور پونے تین سو صفحات میں بہت تحقیقی اور علمی مقدمہ پیش کیا ہے ۔ 
صحیح معنوں میں علمی خدمت کی گئی ہے ۔
اللہ تعالیٰ ان کو بہت بہت جزا دے ۔


Wednesday, 4 November 2020

أصول البزودي - كنز الوصول الى معرفة الأصول - للإمام فخر الإسلام علي بن محمد البزدوي - تخريج أحاديث أصول البزودي - للإمام قاسم بن قطلوبغا - تحقيق، د. سائد بكداش

أصول البزودي - كنز الوصول الى معرفة الأصول

 الإمام الفقيه فخر الإسلام علي بن محمد البزدوي 482هـ

معه تخريج أحاديث أصول البزودي

الإمام الحافظ قاسم بن قطلوبغا 879هـ

تحقيق، د. سائد بكداش

read online


37 mb
 mollayaneبواسطه اخي

کتاب کا کچھ تعارف

بسمِ اللہ والحمدُ لِلہ ، اللہم صلِ علیٰ محمد وازواجہ و ذریتہ واصحابہ اجمعین۔

علم اصول فقہ جلیل القدر علوم میں سے ہے ۔ اسلام کے ماخذ قرآن و سنت و اجماع و قیاس ہیں ، اور ان سے احکام کیسے نکلتے ہیں ۔ یہ اصول فقہ کا موضوع ہے ۔

اس کی وسعت کا اندازہ یوں لگائیے کہ آج کل طلباء کی توجہ جس علم کی طرف زیادہ رہتی ہے یعنی اصول حدیث وہ اصول فقہ کا ایک جزء ہے ۔

اصول فقہ میں علماء کرام نے جلیل القدر تصانیف چھوڑی ہیں۔

ماوراء النھر کے عظیم علاقے جو آج کل ازبکستان ، تاجکستان وغیرہ میں شامل ہے اس کے علاقہ بخارا اور نسف کے بھی ایک جگہہ بزدہ کے علاقے کے بہت بڑے فقیہ امام فخر الاسلام علی البزدویؒ (400ھ-482ھ)

ہیں،انہوں نے اصول فقہ میں مختصر لیکن عظیم کتاب لکھی، 

 جس کی ائمہ کی ایک بڑی تعداد نے شروح لکھیں۔

ہندوستان کے مایہ ناز فقیہ بحر العلوم عبد العلی اللکھنویؒ 1225ھ شرح مسلم الثبوت میں اس کتاب کے بارے میں فرماتے ہیں کہ،

وتلك العبارات كأنها صخور مركوزة فيها الجواهر وأوراق مستورة فيها الزواهر تحيرت أصحاب الأذهان الثاقبة في أخذ معانيها وقنع الغائصون في بحارها بالأصداف عن لآليها ولا أستحيى من الحق وأقول قول الصدق أن جل كلامه العظيم لا يقدر على حله إلا من نال فضله تعالى الجسيم وأتى الله وله قلب سليم

اور یہ عبارتیں گویا چٹانیں ہیں جن میں جواہر جڑے ہوئے ہیں ،

یا پتے ہیں جن میں شگوفے چھُپے ہوئے ہیں ،

روشن ذہن و ذکاوت والے ان کے معانی حاصل کرنے میں متحیر ہیں

اور ان عبارتوں کے سمندورں میں غوطہ لگانے والے بجائے موتیوں کے سیپیوں پر قناعت کر رہے ہیں ،

میں حق کے اظہار میں شرماتا نہیں اور سچی بات کہتا ہوں کہ ان کی باتیں جو عظیم ہیں ، ان کو وہی حاصل کرسکتا ہے جس نے خدا کے فضل عظیم سے حصہ پایا ہو اور خدا کے پاس سے قلب سلیم لے کر دنیا میں آیا ہو۔(اردو ترجمہ ، مولانا محمد حنیف گنگوہیؒ)

بڑے بڑے ائمہ نے امام بزدویؒ کے اصول کی عبارتوں کو حل کرنے کے لئے شروح لکھیں ، ان میں

امام صغناقیؒ 714ھ کی شرح الکافی 5جلد میں مطبوع ہے ۔

امام عبد العزیز البخاریؒ 730ھ کی شرح کشف الاسرار سب سے مشہور ہے ،یہ بھی مطبوع ہے ،

اگرچہ اس کے شایان شان خدمت نہیں ہوئی ۔

امام اکمل بابرتیؒ 786ھ کی شرح التقریر 8 جلدوں میں مطبوع ہے ۔

امام امیر کاتب الاتقانیؒ  751ھ کی عظیم شرح الشامل  ابھی صحیح طرح شائع نہیں ہوئی۔

اس کے علاوہ بھی جم غفیر نے شروح لکھیں ۔

پھر متاخرین کے  بڑے محدث امام حافظ قاسم بن قطلوبغاؒ نے اصول بزدوی میں موجود احادیث کی تخریج کی ۔

حافظ قاسم بن قطلوبغاؒ ۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانیؒ ، حافظ بدر الدین عینیؒ ، اور محقق امام کمال الدین ابن ہمام ؒ کے شاگرد ہیں  ، اور اتنے بڑے محدث ہیں کے وسیع الاطلاع محدث امام زیلعیؒ اور حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے ہدایہ کی تخریج میں جن احادیث کے بارے میں فرمایا کہ وہ اُن کو نہیں ملیں ، حافظ قاسم بن قطلوبغاؒ نے اُن کی بھی  تخریج کردی ہے ۔

اصول بزدوی ، حافظ قطلوبغاؒ  کی تخریج کے ساتھ پہلے بھی کئی جگہہ سے شائع ہو چکی ہے ۔ لیکن موجودہ طباعت 

بہت محقق ہے ۔ ڈاکٹر سائد بکداش نے اصول بزدوی کے 10 مخطوطات کو سامنے رکھ کر تحقیق کی ہے ۔

اللہ تعالیٰ اس خدمت کو قبول فرمائے اور دعاء ہے کہ اسی طرح تحقیق سے اسلاف کی کتب ہمارے سامنے آتی رہیں۔

اللھم صل علیٰ محمد وازواجہ امہات المؤمنین و ذریتہ و اصحابہ اجمعین ،

 والحمد لِلہ رب العالمین۔

 

Monday, 24 August 2020

كشف الآثار الشريفة في مناقب الإمام أبي حنيفة - ۲جلد - الإمام الحافظ الفقيه المحدث أبو محمد عبد الله بن محمد الحارثي البخاري 340هـ

 اخبار الكتب الجديدة 

كشف الآثار الشريفة في مناقب الإمام أبي حنيفة (2مجلد)

الإمام الحافظ الفقيه المحدث

أبو محمد عبد الله بن محمد بن يعقوب الحارثي الكلاباذي السبذموني البخاري 340هـ

تحقيق و تعليق

 الشيخ لطيف الرحمن البهرائجي القاسمي

يصدر قريبا من مكتبة الإرشاد في 2 مجلدات ، وهو أوسع كتاب في مناقب الإمام أبي حنيفة ؒ


قال الشيخ محمد فاتح قايا ، كنت ما شاركت صورة غلاف الكتاب؛ لخطأ وقع في اسم المؤلف على الغلاف؛ قلت: فلعله يمكن تداركه.
فنبهت صاحب الدار، ولكنه كان قد فات الأوان مع الأسف، فأخبرني أن الكتاب قد تمت
طباعته، فلم تبق في اليد حيلة!
وكتب على الغلاف خطأ: السندموني، هكذا! والصواب: السّبَذْمُوني، بضم السين وفتحها.


Friday, 10 July 2020

مخطوط (ناقص) - مسند الإمام أبي حنيفة - الإمام الحافظ ابن المقرئ 381هـ

مخطوط - مسند الإمام أبي حنيفة - الإمام الحافظ ابن المقرئ (285هـ-381هـ) 
یہ مکتبہ فیض اللہ ترکی کے نامکمل مخطوطہ کے ۱۵صفحات ہیں۔
حافظ ابونعیم اصفہانیؒ نے جو مسند ابی حنیفہؒ لکھی ہے اس میں بھی اپنے شیخ حافظ ابن المقرئؒ سے بہت سی روایات لکھی ہیں۔
اس کے شروع میں  جو سند ہے اس میں بڑے بڑے حفاظ المزیؒ ، العراقیؒ ، ابن حجرعسقلانیؒ  کا نام موجود ہے ۔



Monday, 24 February 2020

اخباركتب الجديدة 1441هـ-2020ء - مسند الإمام أبي حنيفة - ابن المقرئ / الموطأ مالك ، برواية محمد بن الحسن، طبعة جديدة

اخبار الكتب الجديدة 1441هـ-2020ء
مسند الإمام أبي حنيفة - الإمام الحافظ ابن المقرئ (285هـ-381هـ) 
تحقيق: العلامة لطيف الرحمن البهرائجي القاسمي
طبع - دار السمان

اخبار الكتب الجديدة 1441هـ-2020ء  
(طبع دار القلم) - برواية محمد بن الحسن  الموطأ، امام مالك
 تحقيق - د. صفوان داوودي
-------------------


موطا  مالک ،  بروایت امام محمد  کی اس طبع کی محقق نے یہ خصوصیات بیان کی ہیں۔
-  4 نفیس مخطوطات کے علاوہ مزید 10نسخوں سے مراجعت کی ہے ۔
-  2 مکمل احادیث کا اضافہ کیا ہے جو کسی بھی مطبوعہ نسخہ میں نہیں ہے ۔
 اور بہت سے ساقط کلمات کا اضافہ کیا ہے ۔
-  بہت سی تصحیفات اور تحریفات کی سند اور متن میں تصحیح کی گئی ہے ۔
-  امام محمدؒ نے امام مالکؒ سے 167 مسائل میں اختلاف کیا گیا ہے ، ان کو جمع کیا ہے ۔
-  امام محمدؒ نے امام ابوحنیفہؒ سے 29مسائل میں اختلاف کیا ہے ، ان کاذکر کیا ہے ۔
-  امام محمدؒ کی بلاغات جن کی تعداد 106ہے ، کی تخریج کی گئی ہے جن سے گزشتہ شراح  نے تعرض نہیں کیا۔    
-  امام محمدؒ کے  کلام سے  اصول فقہ کے مسائل و قواعد کا استنباط کیا ہے ۔ جن کی تعداد 64 ہے ۔
-  محقق محدثین کے طریق پر احادیث کی تخریج کی گئی ہے ۔
-  محقق نے کتاب کی سند موجودہ زمانے سے امام محمدبن حسنؒ تک ذکر کی ہے ۔
-  اور فہارس علمیہ  کا اضافہ کیا ہے ۔ 



Friday, 31 January 2020

العقيدة الطحاوية - تعليق ، المفتي محمد ابراهيم تيمورى

بَيانِ اعْتِقادِ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالجَماعَةِ
عَلى مَذهَبِ فُقَهَاءِ المِلَّةِ أَبي حَنيفَةَ النُّعْمانِ بْنِ ثابتٍ الكُوفِيِّ،
وَأَبي يُوسُفَ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْراهيمَ الأَنْصَارِيِّ، وَأَبي عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدِ بْنِ الحَسَنِ الشَّيْبانِيِّ
رَواهُ الإْمامُ أَبو جَعْفَرٍ الطَّحاوِيُّ

)مَتنُ العَقيدَةِ الطَّحاوِيةِ(

تعليق

المفتي محمد ابراهيم تيمورى

Thursday, 14 November 2019

تدريب الراوى في شرح تقريب النواوي، السيوطي الشافعي - ومعه ثبت وحاشية، ابن العجمي - تحقيق، محمد عوامة

تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي - 1/5 ،ط المنهاج
جلال الدين السيوطي الشافعي 911هـ
معه ثبت وحاشية علي تدريب ، احمد ابن العجمي 1086هـ
تحقيق تعليق و دراسة ، محمد عوامة

[ مفهرس / موافق للمطبوع ]

Read Online
            (المجلد-1 (ثبت ، احمد ابن العجمي1086هـ ، مقدمة التحقيق و دراسة ، محمد عوامة                        
Download - تحميل
(غلاف  -  المجلد1 (ثبت ، احمد ابن العجمي1086هـ ، مقدمة التحقيق و دراسة ، محمد عوامة                  
                                                           16 MB    -   2 MB
20 MB   -    19 MB       -        17 MB    -    19 MB

بواسطة اخواننا موقع المشكاة
-------------------------------------  
تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي - ط المنهاج
يطبع وينشر محققاً على خمس نسخ خطية
اختصر الإمام النووي رحمه الله تعالى كتابه «التقريب والتيسير لمعرفة سنن البشير النذير» في أصول الحديث من كتابه الأكبر 
«إرشاد طلاب الحقائق»، والذي اختصره أيضاً من كتاب «مقدمة ابن الصلاح» رحمهما الله تعالى، فكتابه خيار من خيار من خيار.
ثم جاء الحافظ الإمام، والبحر الهمام: أبو الفضل جلال الدين السيوطي رحمه الله تعالى، فسكب من مزن فضله وعلمه، ونثر من درر ما جمع من نثره ونظمه، فأتحفنا بكتاب لم يسبق إليه، ولم يؤلف على منواله لغزارة علومه؛ حيث قال في مقدمته: (هذا؛ وقد طال ما قيدت في هذا الفن فوائد وزوائد، وعلقت فيه نوادر وشوارد، وكان يخطر ببالي جمعها في كتاب، ونظمها في عقدٍ لينتفع بها الطلاب، فرأيت كتاب «التقريب والتيسير» لشيخ الإسلام الحافظ، ولي الله تعالى أبي زكريا النواوي: كتاباً جل نفعه، وعلا قدره، وكثرت فوائده، وغزرت للطالبين موارده.
وهو مع جلالته وجلالة صاحبه، وتطاول هذه الأزمان من حين وضعه لم يتصدَّ أحدٌ إلى وضع شرح عليه، ولا الإنابة إليه، فقلتلعل ذلك فضلٌ ادخره الله تعالى لمن يشاء من العبيد، ولا يكون في الوجود إلا ما يريد).
وهذا الكتاب من أجلِّ ما أُلف في هذا العلم، ومن أنفع وأجمع ما صُنِّف لأهل الفهم؛ فلقد حرر المسائل، وجاء بكلام الأواخر والأوائل، موضحاً ومبيناً، وناقداً وشارحاً.

ثم تصدى لخدمة هذا الكتاب وتحقيقه فضيلة العلامة المحدث الشيخ محمد عوامة حفظه الله تعالى، فقابل الكتاب على خمس نسخ خطية، أثبت فيه نص الكتاب الصحيح بإتقانه المعروف، وأشار لبعض الفروق مما له فائدة وأهمية.

ثم ثنى بحاشية العلامة ابن العجمي رحمه الله تعالى، والذي طرز نسخته بفوائد مهمة وحواشي مفيدة، سطرها بهامش نسخته، مما زاد من رفعة هذا الكتاب وأهميته، مع تخريج نصوصه وإيضاح مكنونه، وذكر فوائد حديثية، ونفائس علمية، ومناقشة كثير من الآراء مما له أهمية، مع فهارس متنوعة، نسأل الله أن يجزي المؤلف والمحقق خير الجزاء، وأن يجري النفع على يدي محققه؛ إنه خير مأمول وأكرم مسؤول.
والحمد لله ربّ العالمين

Sunday, 11 August 2019

حج وعمره ايک نظر میں



   ، مستفاد
کتاب مختصر مسنون حج و عمرہ 
 مفتی ڈاکٹر عبد الواحد صاحب رحمہ اللہ

Tuesday, 2 October 2018

ابراہیم نخعیؒ کی مرسل روایات اور امام شافعیؒ


ابراہیم نخعیؒ کی مرسل روایات اور امام شافعیؒ 

ابراہیم نخعیؒ کوفہ کے عظیم تابعی امام ہیں ۔ان کی مرسل احادیث جمہور کے نزدیک صحیح ہیں ۔
بلکہ ان کی مُسند و متصل سے بھی زیادہ قوی ہیں ۔
اس کی وجہ اُن کا یہ فرمانا ہے کہ جب وہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت بیان کرتے ہوئے راوی کا نام 
لیں تو وہ صرف اُسی سے سُنی ہوتی ہے
اور جب وہ راوی کا نام چھوڑ دیں اور براہ راست حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا نام لیں ۔یعنی روایت مرسل بیان
 کریں ،تو وہ روایت انہوں نے بہت سے راویوں سے سُنی ہوتی ہے ۔
اُن کا یہ قول اگرچہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے بارے میں ہے ۔ لیکن اصل میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ 
اپنے ارسال کا طریقہ بتا رہے ہیں ۔ چناچہ کوئی وجہ نہیں کہ اس قول کو حضرت عمرؓ ، حضرت علیؓ  ، حضرت 
عائشہ ؓ اور دوسرے صحابہؓ کے سلسلہ میں نہ مانا جائے ۔

اسی وجہ سے جمہور ائمہ اُن کی  مرسل احادیث کی تصحیح کرتے ہیں ۔

امام ابراہیم نخعیؒ کا یہ اوپر والا قول بہت مشہور ہے اور متعدد کتب میں ہے ۔

اور مُرسل حدیث کے سب سے بڑے نقاد امام شافعیؒ کو بھی معلوم ہے ۔

كتاب الأم 7-183 (ط دار المعرفة) 
میں اہل کوفہ کا ذکرکرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔
الشافعي قال: أخبرنا مغيرة عن إبراهيم عن عبد الله قال: بيع الأمة طلاقها
وهم يثبتون مرسل إبراهيم عن عبد الله 
ويروون عنه أنه قال: إذا قلت قال عبد الله فقد حدثني غير واحد من أصحابه 
وهم لا يقولون بقول عبد الله هذا
ويقولون: لا يكون بيع الأمة طلاقها
وهكذا نقول 
ونحتج بحديث «بريرة أن عائشة - رضي الله عنها - اشترتها ولها زوج ثم أعتقتها

باندی کی بیع اُس کی طلاق کے مسئلہ کے ضمن میں امام شافعیؒ نے فرمایا ہے کہ
وہ (یعنی اہل کوفہ) حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے امام ابراہیم نخعیؒ کی مرسل روایت کو ثابت مانتے ہیں
اور ابراہیم نخعیؒ سے روایت کرتے ہیں کہ جب وہ براہ راست یہ کہیں کہ
‘‘ عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا 
تو یہ بات انہوں نے ابن مسعودؓ کے بہت سے شاگردوں سے سُنی ہوتی ہے ۔

امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ لیکن وہ (اہل کوفہ) ابن مسعودؓ کے باندی کی بیع اور طلاق ، کے سلسلہ میں جو قول 
ہے اس پر عمل نہیں کرتے ۔
امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ ہمارا بھی یہی قول ہے ۔ حضرت بریرہؓ کی حدیث وجہ سے ۔۔۔
---------------
امام شافعیؒ  صاف فرماتے ہیں کہ اہل کوفہ اسی قول کی وجہ سے ابراہیم نخعیؒ کی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کی ہوئی مرسل روایات کی تصحیح کرتے ہیں ۔ 
اس کے باوجود جو بعض شافعی علماء اس میں عجیب قسم کے احتمالات پیدا کرتے ہیں ۔ 
وہ ناانصافی کرتے ہیں ۔
جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے تو، 
دراصل  اہل کوفہ امام ابوحنیفہؒ اور اُن کے شاگردوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے قول کو چھوڑ کر حضرت
 بریرہؓ کی حدیث اور حضرت عمرؓ ، حضرت علیؓ ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت حذیفہؓ  کےاقوال کو اختیار کیا تھا۔ 

اہل کوفہ کی کتاب میں یہ مسئلہ یوں موجود ہے ۔

كتاب الآثار امام ابوحنيفه , برواية محمد بن الحسن الشيبانى میں ہے ۔

محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن ابن مسعود رضي الله عنه في المملوكة تباع 
ولها زوج, قال: بيعها طلاقها.

قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا, 
ولكنا نأخذ بحديث رسول الله صلى الله عليه وسلم حين اشترت عائشة رضي الله عنها بريرة, فأعتقتها فخيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أن تقيم عند زوجها, أو تختار نفسها, فلو كان بيعها طلاقها ما خيرها.
وبلغنا عن عمر, وعلي, وعبد الرحمن بن عوف, وسعد بن أبي وقاص, وحذيفة أنهم لم يجعلوا بيعها طلاقها, 
وهو قول أبي حنيفة رحمه الله.
یعنی حضرت ابن مسعودؓ کا قول نقل کرکے اس کی شرح میں امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ ہم اُن کے قول کو 
اختیارنہیں کرتے حضرت بریرہؓ والی حدیث کی وجہ سے ،
اور ہمیں حضرت عمرؓ ، حضرت علیؓ ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ ، 
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت حذیفہؓ  سے یہ روایت ہے کہ 
 انہوں نے اس کے بیچنے کو طلاق قرار نہیں دیا ۔
اور یہی امام ابوحنیفہؒ کا قول ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی مسئلہ کے سلسلہ میں امام اعمشؒ نے امام ابویوسفؒ سے پوچھا تھا کہ 
تمہارے صاحب (یعنی ابوحنیفہؒ) نے عبد اللہ بن مسعود ؓ کا قول
باندی کی آزادی اس کے حق میں طلاق ہے 
کیوں ترک کر دیا 
ابو یوسفؒ :  اس حدیث کی وجہ سے جو آپ نے ہی روایت کی ہے ۔
اعمشؒ :    ” کونسی حدیث؟
ابویوسفؒ :    آپ نے ابراہیمؒ سے انہوں نے اسودؒ سے ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے
روایت کی ہے کہ بریرۃَؓ    کو جب آزادی حاصل ہوئی تو انہیں اختیار دیا گیا تھا۔
یہ جواب سن کر امام اعمشؒ بولے ’’بے شک ابو حنیفہ تو فقیہ ہیں اور حدیث کے موقع ومحل کو خوب اچھی 
طرح جانتے ہیں اور اس میں بڑا شعور رکھتے ہیں ۔
( ص26اخبار ابی حنيفة واصحابه، الصيمری، ص147 الانتقاء ابن عبدالبر)