Showing posts with label تعارف كتب - حديث - عربي. Show all posts
Showing posts with label تعارف كتب - حديث - عربي. Show all posts

Monday, 24 August 2020

كشف الآثار الشريفة في مناقب الإمام أبي حنيفة - ۲جلد - الإمام الحافظ الفقيه المحدث أبو محمد عبد الله بن محمد الحارثي البخاري 340هـ

 اخبار الكتب الجديدة 

كشف الآثار الشريفة في مناقب الإمام أبي حنيفة (2مجلد)

الإمام الحافظ الفقيه المحدث

أبو محمد عبد الله بن محمد بن يعقوب الحارثي الكلاباذي السبذموني البخاري 340هـ

تحقيق و تعليق

 الشيخ لطيف الرحمن البهرائجي القاسمي

يصدر قريبا من مكتبة الإرشاد في 2 مجلدات ، وهو أوسع كتاب في مناقب الإمام أبي حنيفة ؒ


قال الشيخ محمد فاتح قايا ، كنت ما شاركت صورة غلاف الكتاب؛ لخطأ وقع في اسم المؤلف على الغلاف؛ قلت: فلعله يمكن تداركه.
فنبهت صاحب الدار، ولكنه كان قد فات الأوان مع الأسف، فأخبرني أن الكتاب قد تمت
طباعته، فلم تبق في اليد حيلة!
وكتب على الغلاف خطأ: السندموني، هكذا! والصواب: السّبَذْمُوني، بضم السين وفتحها.


Monday, 12 March 2018

مسند امام اعظم , الحصكفي اور مسند حماد بن ابي حنيفه يعني كتاب الآثار ابي حنيفة بروايت حماد


امام ابوحنیفہؒ کی کتاب الآثار حدیث کی سب سے قدیم اور صحیح کتب میں سے ہے ۔

 موجود طبع شدہ کتب میں اس سے پہلے کی غالباََ صرف صحیفہ ہمام بن منبہؒ ہے ۔
 کتاب الآثار اور موطا امام مالک ؒ کا طرز آپس میں کافی ملتا جلتا ہے ۔

یہ دو بڑے ائمہ کی کتب کئی حوالوں کے علاوہ اس لحاظ سے بھی دوسری کتب سے منفرد ہیں کہ ان کو روایت کرنے والے بھی عظیم فقہاء اور ائمہ ہیں اور کثیر تعداد میں ہیں ۔
 کتاب الآثار کو امام ابو یوسفؒ ، امام محمدؒ ، امام زفرؒ ، امام المقرئ حمزہ بن زیاتؒ ، اور کئی دوسرے ائمہ نے روایت کیا جن کی تفصیل مولانا عبد الرشید نعمانیؒ کے مقدمہ کتاب الآثار میں دیکھی جاسکتی ہے ۔
اسی طرح موطا امام مالک ؒ کو بھی امام یحییؒ ، امام محمد ؒ ، امام ابن القاسمؒ ، امام شافعیؒ کے علاوہ کثیر ائمہ نے روایت کیا ۔
کتاب الآثار کے دو نسخے امام محمد ؒ اور امام ابو یوسفؒ کے دستیاب اور متداول ہیں ۔ 
امام حسن بن زیادؒ کے نسخہ کے مخطوطہ کا ذکر فہارس میں موجود ہے ۔ 

اس کے علاوہ دوسرے نسخے میری معلومات کے مطابق بذات خود فی الحال دستیاب نہیں ہیں ۔

 لیکن امام ابوحنیفہؒ کی مسانید جمع کرنے والے محدثین نے اپنی اسانید سے ان نسخوں کی کئی روایات کو محفوظ کرلیا ہے ۔
اصل نسخہ اور مسند میں روایت شدہ احادیث کے درمیان فنی لحاظ سے یہ فرق ہے کہ اگر صرف سند کی تحقیق کرنی پڑے تو اصل نسخہ میں امام ابوحنیفہؒ سے اوپر کے راویوں کی ہی تحقیق کرنی پڑے گی ۔ جبکہ مسند میں روایت کردہ حدیث کی سند کی جامع مسند سے امام ابوحنیفہؒ تک کے راویوں کو بھی دیکھنا پڑے گا ۔
مثال کے طور پہ کتاب الآثار بروایت حسن بن زیادؒ ابھی چھپی  نہیں ۔ لیکن اس کی سینکڑوں روایات ایک ہی سند سے 
جامع المسانید خوارزمی میں کئی دوسری مسانید  کے حوالے سے مروی ہیں ۔ اور مسند ابن خسرو  میں بھی مروی ہیں ۔ 
مولانا محقق ابو الوفا افغانیؒ فرماتے ہیں کہ مسند حسن بن زیادؒ (یعنی نسخہ کتاب الآثار بروایت حسن) کو جامع المسانید اور ابن خسروؒ نے پورا محفوظ کر لیا ہے ۔

اب اس پر میرے نزدیک اعتماد کیا جاسکتا ہے اور صاحب جامع المسانید اور ابن خسروؒ سے لے کر امام حسن بن زیادؒ تک کی 
سند کی تحقیق کی زیادہ حاجت نہیں ۔
اور امام خوارزمی ؒ صاحب جامع المسانید کے پاس تو مسند حسن بن زیادؒ موجود بھی تھی۔ وہ اس کی روایات 

(وأخرجه) الحسن بن زياد في مسنده

کہہ کر براه راست نقل کرتے ہیں ۔

اور اگر اصل نسخہ دستیاب ہو تو اس کی روایت پھر اور زیادہ معتمد ہو گی ۔
 اسی طرح  نویں صدی ہجری کے بڑے محدث حنبلی عالم ابن الدوالیبی الحنبلی ۸۵۸ھ نے کتاب الآثار بروایت حسن بن زیاد(جس کو بعض مسند الحسن بن زیاد بھی کہتے ہیں) 
اس کتاب سے ۶۰ احادیث ’’ الاحادیث الستون ابی حنیفہ ‘‘ کے عنوان سے روایت اورجمع کی ہیں ۔
    اس کا مخطوطہ بھی موجود ہے  اور علامہ زاہد الکوثریؒ نے امام حسن بن زیاد ؒ کی سوانح ’’ الامتاع ‘‘  میں ان کو نقل بھی کردیا ہے جو طبع ہے ۔ 
اس کی حیثیت کتب احادیث سے جو  زوائد جمع کئے جاتے ہیں اس جیسی ہے ۔ اب چاہے اصل کتاب مفقود ہوجائے لیکن زوائد جمع کرنے والا اگر ثقہ عالم ہے تو اس پر اعتماد لازمی ہے ۔
اسی لئے ہم امام خوارزمیؒ اور امام ابن الدوالیبی الحنبلیؒ پر اعتماد کرتے ہیں ۔ اس کی حیثیت اصل نسخہ جیسی ہی ہے ۔
----------------------------
امام ابوحنیفہ ؒ کے صاحبزادے امام ابن الامام حماد بن ابی حنیفہؒ نے بھی کتاب الآثار کو امام صاحب سے روایت کیا ہے ۔
جس کی شہرت کا یہ عالم ہے کہ دوسرے کئی محدثین کی طرح حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے بھی المعجم المفہرس میں اس کا ذکر

نسخة حماد بن أبي حنيفة عن أبيه  
  
 ۔ کہہ کر کیا ہے ۔ اور امام حماد ؒ تک اپنی سند بھی نقل کی ہے
اور ابن کثیر ؒ نے تفسیر میں اس نسخہ کی روایت   حماد بن أبي حنيفة عن أبيه کہہ کر نقل کی ہے ۔
اس نسخہ کی بھی بہت سی روایات مسانید ابی حنیفہ میں موجود ہیں ۔ 
جامعین مسانید جو بڑے بڑے محدثین ہیں ، ان کی اور حافظ ابن حجرؒ کی سند بھی تقریباََ ایک جیسی ہی ہے ۔ 

امام ابو حنیفہؒ کی مسانید میں سب سے زیادہ مشہور ، مستند ۔۔امام حافظ عبد الله الحارثی البخاریؒ 340ھ کی مسند امام اعظم  ہے 

جس کا اختصار ساتویں صدی ہجری کے عالم حافظ دمیاطی ؒ کے شیخ حافظ موسي بن زكريا الحصكفيؒ  650ھ نے کیا۔
جو کہ بہت مشہور ہے ۔آج کل خصوصاََ اردو میں مطلق مسند امام اعظم بولا جائے تو اس سے یہی مراد لی جاتی ہے ۔
اگرچہ مسند الحصکفیؒ ۔۔۔۔۔۔۔مسند الحارثیؒ کا ہی اختصار ہے لیکن انہوں نے کچھ وہ روایات جو امام حماد بن ابی حنیفہؒ نے 
اپنے والد سے روایت کی ہیں ۔۔۔وہ بھی اس میں لی ہیں ۔
مولانا ابو الوفا افغانی ؒ نے مولانا عبد الرشید نعمانیؒ کو خط میں لکھا کہ ایسی روایات الحصکفی ؒ نے مسند ابن خسرو سے لی ہیں ۔
لیکن یہ خیال تب کیا جا سکتا ہے کہ جب یہ سمجھ لیا جائے کہ امام حمادؒ کا اصل نسخہ مفقود ہے ۔ حالانکہ حافظ ابن حجرؒ ، 
حافظ خوارزمیؒ ، حافظ ابن کثیرؒ وغیرہ اس نسخہ سے واقف ہیں تو حافظ الحصکفیؒ تو ان سے بھی پہلے کے ہیں ۔
 اس لئے زیادہ گمان ہے کہ انہوں نے یہ روایات ۔نسخہ حماد بن ابی حنیفہ عن ابیہ ۔ سے براہ راست نقل کی ہیں ۔

مسند الحصکفیؒ کی اصل مسند ابھی چھپی نہیں ۔ جو چھپی ہوئی ہے وہ مسند حصکفیؒ کو فقہی ابواب پر شیخ حافظ عابد سندیؒ نے مرتب کیا ہے ۔ یہ کتاب چھپی ہوئی ہے ۔
گمان تھاکہ اصل مسندحصکفی دیکھنے سے یہ معلوم ہوسکتا ہےکہ انہوں نے ابن خسروؒ سے لی ہیں یا اصل نسخہ حمادؒ 
سے ۔ پھر یہ گمان قوی سے بڑھ کرکافی حد تک یقین کے درجہ میں ہوگیا ۔

 اسلامی کتب کے مخطوطات کے بڑے ذخائر میں سے ایک ملک ترکی بھی ہے جہاں بڑے قدیم مخطوطات موجود ہیں ۔
  ترکی کا مشہور مکتبہ ہے ۔۔ینی جامع ۔
بالتركية :  Yeni Cami
اس مكتبه میں ایک حدیث کے مجموعہ کا مخطوطہ ہے جو ۷۵۹ھ کا لکھا ہوا ہے ۔ 
اور آٹھویں صدی ہجری کے  حنفی عالم محدث کا ہے ۔
كتاب التيسير في حديث البشير النذير - صلي الله عليه وعلى آله وصحبه وسلم تسليما

اس کے ناسخ عثمان بن محمد بن عثمان الكراكي الانصاري ہیں ۔ 
اور مصنف کا نام ہے ۔
الشيخ الامام المتقن المفنن قاضي القضاه الورع الزاهد العالم العامل
علم الدين ابي داؤد سليمان ابن الشيخ شرف الدين (اوشر بن بلدق) الترکمانی (او الترجمانی) الحنفي 
المعروف بقاضي حماه 
المتوفي 736هـ

حافظ ابن حجرؒ نے درر الکامنہ میں اور حافظ تقی الدین نے طبقات السنیہ میں ان کا مختصر ذکر کیا ہے ۔

 حماة قَضَاء سُلَيْمَان التركماني الْحَنَفِيّ نَشأ بحمص ودرس بهَا ثمَّ ولي 

 مشاركاً فِي الْفُنُون ويدري القراآت مَاتَ فِي ربيع الآخر سنة736 وَكَانَ

طبقات السنیۃ میں ہے

 سليمان بن عبد اللّه القاضى، علم الدّين التّركمانىّ *
قال فى «الدّرر»: نشأ بحمص، و درّس بها، ثم ولى قضاء حماة.
و كان مشاركا فى الفنون،  و برّز فى القراءات .
و مات فى ربيع الآخر، سنة ست و ثلاثين و سبعمائة. رحمه اللّه تعالى.

ان کی یہ کتاب ۔ 

ایک طرح سے جامع الاصول مجد الدین ابن الاثیر الجزریؒ ۶۰۶ھ کے اوپر ایک طرح کا کام ہے ۔ اس میں انہوں نے کچھ ترتیب بدلی ہے اور جامع الاصول میں جو کتب تھیں ۔ موطا ۔ بخاری ۔ مسلم ۔ ابو داود ۔ نسائی ۔ ترمذی ۔ رزین ۔ اس میں مسند امام اعظم کا اضافہ کیا ہے ۔ جو کتاب کے آخر میں ہے ۔اور صفحہ  ۲۷۷ سے شروع ہوتی ہے ۔

 ۔ مسند الامام ابي حنيفة من رواية الحصكفي ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور روایات امام ابوحنیفہ ؒ کے شیوخ کی ترتیب پر ہیں ۔پھر صفحہ ۲۹۷ تک روایات ہیں
اور پھر جلی عنوان ہے ۔

مسند حماد بن ابي حنيفة رحمهما الله عن ابيه

پھر ۔ حماد عن ابیہ ۔ کی سند سے تقریباََ ۳۱ روایات بیان کی ہیں ۔جو مخطوطہ کے آخری ڈھائی صفحات پر ہیں ۔
جن کا عکس نیچے موجود ہے ۔
اس میں مسند حماد بن ابی حنیفہؒ کی پہلی روایت یہ ہے ۔
حماد بن أبي حنيفة، عن أبيه، عن ابن خثيم المكي، عن يوسف بن ماهك، 
صلى الله عليه وسلم حفصة ؓ زوج النبي عن 
 أن امرأة أتتها فقالت: إن زوجي يأتيني مجبية ومستقبلة فكرهته، 
فقالصلي الله عليه وسلم النبيفبلغ ذلك 

((لا بأس إذا كان في صمام واحد)) 


یہ روایت سورۃ بقرہ ۲۲۲،۲۲۳ کی تفسیر میں حافظ ابن کثیرؒ نے اسی طریق سے نقل کی ہے ۔
وقد روي من طريق حماد بن أبي حنيفة , عن أبيه ,عن ابن خثيم .......(تفسیر ابن کثیر)۔

اورمخطوطہ میں  آخری روایت یہ ہے ۔
حماد بن أبي حنيفة، عن أبيه، عن إسماعيل بن أبي خالد، وبيان بن بشر، عن قيس بن أبي حازم قال: 
سمعت جرير بن عبد الله ؓ يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم
((سترون ربكم عز وجل كما ترون هذا القمر ليلة البدر، لا تضامون في رؤيته، 
فانظروا ألا تغلبوا على صلاة قبل طلوع الشمس، وقبل غروبها)).
قال حماد يعني به الغداة والعشي.
اس میں امام حمادبن ابی حنیفہ ؒ نے تشریحی الفاظ بھی بڑھائے ہیں ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا طرز بھی 
امام ابو یوسف ؒ اور امام محمد ؒ کی طرح تھا۔ یعنی صرف روایت نہیں کیا ۔ بلکہ کتاب میں اضافہ بھی کیا ہے ۔

یہ روایات مسند حصکفی جو چھپی ہوئ ہے جو دراصل ترتیب سندی ہے ۔ اس میں تو موجود ہیں ہی ۔ اور مسند ابن خسرو ؒ میں بھی ہیں ۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ براہ راست الآثار ابی حنیفہ بروایت حماد ۔ یعنی نسخہ حماد بن ابی حنیفہ عن ابیہ ۔ سے نقل کی گئی ہیں ۔ 

ممکن ہے اس کا مخطوطہ بھی کہیں ہو اور کبھی سامنے آجائے ۔

واللہ سبحانہ اعلم ۔





Wednesday, 6 September 2017

اخبار الكتب - موسوعة الحديث - مشرف , مفتي محمد تقي عثماني

جامعہ دار العلوم کراچی میں احادیث کا انسائیکلوپیڈیا تیار کیا جارہا ہے ۔ تعارف ان کی ویب سائٹ پہ کچھ اس طرح ہے ۔
--------------------
موسوعۃ الحدیث
یہ شعبہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زید مجدہم اور بعض دوسرے علماء کی تجویز پر قائم کیں گیا ہے، 
اس شعبہ کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ:
احادیث نبوی میں جتنی بھی احادیث ہیں ان کو ایک جگہ اس طرح جمع کیا جائے کہ
کوئی حدیث مکرر نہ ہو
اور کوئی فائدہ چھوٹنے نہ پائے
 اور ساتھ ساتھ اس کو ایک عالمی نمبر الاٹ کیا جائے جو اس حدیث مع اس کے جمیع طرق کے اس کی شناخت بن جائے
جس طرح قرآن کریم کی آیات کے نمبر مخصوص ہیں۔
اس مقصد کے لئے شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد تقی عثمانی زیدمجدہم نے ۱۴۲۲ھ کو مکہ مکرمہ میں
 علماء کرام کا اجتماع منعقد فرمایا۔ سب نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا اور ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے ذمہ اس کے 
طریق کار اور اس کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنا تھا۔
ابتداً پچاس ایسے مصادر منتخب کئے گئے جن میں احادیث مسندہ مروی تھیں بعد ازاں ان میں اضافہ کردیا گیا
اب ان مصادر کی تعداد ۷۵ ہے
ان مصادر کی احادیث کو جمع کرنے کا کام جاری ہے
اور اب تک تقریباً ساڑھے سات ہزار احادیث کے سوا دو لاکھ طرق پر کام ہوچکا ہے
 اور اس موسوعہ کے لئے مخصوص سافٹ وئیر میں ان کو فیڈ کیا جاچکا ہے۔
اس کے نگران اعلیٰ شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زیدمجدہم ہیں
 اس شعبہ کا نام ’’موسوعۃ الحدیث‘‘ ہے۔ اس شعبہ میں دس ذی استعداد فاضلین ومتخصصین کام کر رہے ہیں۔
------------------

اس کی پہلی جلد کا ٹائٹل یہ ہے ۔ عرب میں چھپی ہے ۔



Wednesday, 18 May 2016

اخبار الكتب - المواهب اللطيفہ شرح مسند ابی حنیفہ۔عابد سندیؒ



اخبار الكتبالمواهب اللطيفہ شرح مسند ابی حنیفہعابد سندیؒ
--------------------
امام ابو حنیفہؒ کی مسانید بیسیوں ہیں ۔ اور ان پر ۔۔۔اور حدیثی کام اس کے علاوہ ہیں ۔
ان کی مسانید میں سب سے زیادہ مشہور ، مستند ۔۔۔امام حافظ عبد اللہ الحارثی البخاریؒ کی مسند امام اعظم ہے ۔
 اس پر بھی اگرچہ کئی طرح کام ہوا ہے ۔ لیکن اس کا ایک اختصار جو الحصکفیؒ نے کیا بہت مشہور ہے ۔

اگرچہ مسند الحصکفیؒ ۔۔۔مسند الحارثیؒ کا ہی اختصار ہے لیکن انہوں نے کچھ وہ روایات جو امام حماد بن ابی حنیفہؒ نے اپنے والد سے روایت کی ہیں ۔۔۔وہ بھی اس میں لی ہیں ۔۔۔
وہ انہوں نے یا تو مسند امام اعظمؒ ابن خسروؒ سے لی ہیں 
یا براہ راست مسند حماد بن ابی حنیفہؒ جو کہ دراصل کتاب الآثار کا ہی نسخہ ہے ۔۔۔سے لی ہیں۔
 مسند الحصکفیؒ کی دو شروح شائع ہو چکی ہیں ۔ 
ایک امام ملا علی قاریؒ کی ۔۔۔۔سند الانام 
دوسری مولانا محمد حسن سنبھلیؒ کی۔۔۔تنسیق النظام

ايك اور شرح جو عرصہ دراز سے مخطوط تھی اور ان دونوں شروح سے زیادہ بڑی تھی ۔۔۔اور کئی علما کے نزدیک بہت زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔اب مولانا تقی الدین ندوی صاحب کی تحقیق سے دار النوادر سے ۷ جلدوں میں شائع ہو گئی۔
ؒالمواهب اللطيفة شرح مسند الإمام أبي حنيفة - شيخ محمد عابد السندي

مولانا عبد الرشید نعمانیؒ کے مطابق فتح الباری ابن حجرؒ کے بعد اس شان کی شرح نہیں لکھی گئی۔۔۔
 مسند الحصکفی میں غالباََ ساڑھے پانچسو تک احادیث ہوں گی ۔۔ اور اس کی اتنی ضخیم شرح ۔۔۔ 

متابعات و شواہد ، تخریج احادیث ، وصل منقطع ، نیز سند اور متن سے متعلق تمام چیزوں کا حل ۔۔۔

اور اس کے علاوہ متن کی جامع شرح ۔۔۔

پورا تعارف تو پڑھ کر ہی کروایا جا سکتا ہے ۔۔۔ 
ابھی تو مولانا تقی الدین ندوی صاحب حفظہ اللہ نے تحقیق تخریج و تعلیق مختصر کی ہے 
شاید اس لئے کہ حجم مزید نہ بڑھ جائے ورنہ شیخ سائد بکداش کی  تحریر پڑھ کر تو لگتا ہے کہ
اگر اس شرح کو مکمل تحقیق تخریج و تعلیق سے مزین کر کے شائع کیا جائے تو ۱۰ سے زیادہ جلدیں ہو جائیں



ایک بھائی ابو تراب علی رضا صاحب (اللہ ان کو جزائے خیر دے ) اس کے مثال کے طور پہ
كچھ صفحات اپلوڈ کئے ہیں جس میں محقق کا مقدمہ ۔ شیخ عابد کا ۲ صفحات کا مقدمہ  (اس میں واحد یہی تشنہ پہلو ہے کہ شیخ عابد سندیؒ نے اس کا مقدمہ نہیں لکھا ۔جیسے علامہ سنبھلیؒ نے لکھا یا جیسےحافظ ابن حجر ؒ کا مقدمہ) اور پہلی حدیث کی تھوڑی سی شرح شامل ہے ۔
Download - مواہب اللطیفہ ۴۰ صفحات

(نوٹ ۔ یہ تحریر ۲۰۱۶ کی ہے پھر یہ کتاب پوری اپلوڈ ہوگئی اور یہاں موجود ہے )

اخبار الكتب - شرح مشكاة ابن حجر مكي۔ و لمعات التنقيح دهلوي


محمد بن عبد الله الخطيب التبريزي -741ھ - كی مشہور کتاب المشكاة المصابيح کی کئی اہم شروح ہیں ۔

جن میں سے ۔۔۔
الكاشف عن حقائق السنن - شرف الدين الحسين بن عبد الله الطيبي - 743ھ 
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - ملا علي القاري - 1014ھ 
شائع ہو چکی ہیں ۔اگرچہ جیسا کہ تحقیق کا حق ہے ویسی نہیں ۔۔۔



پچھلے کچھ عرصے میں دو اہم شروح بھی شائع ہو گئیں ۔
ایک ان میں سے ابن حجرمکیؒ کی ہے 
فتح الإله في شرح المشكاة - ابن حجر الهيتمي 973 هـ
مجلد - 10
أحمد فريد المزيدي کی تحقیق کے ساتھ - دار الكتب العلمیہ سے شائع ہوگئی ہے ۔






دار الکتب العلمیۃ کی تحقیق تو اتنی اچھی نہیں ہوتی ۔ لیکن یہ اللہ کا شکر ہے کتاب شائع تو ہو گئی۔ 


--------------------


دوسری کتاب جو کہ پہلے نامکمل چھپی تھی اب مکمل شائع ہوئی ۔
لمعات التنقیح شرح مشکاۃ المصابیح - شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ - 1052ھ 
10 جلدوں میں ۔ مولانا تقی الدین ندوی مظاہری صاحب کی تحقیق سے شائع ہوئی ہے ۔
یہ امید ہے کہ ان کی دوسری تحقیقات کی طرح بہترین ہوگی۔