Saturday, 15 April 2017

تكوين المذهب الحنفي - سائد بكداش

تكوين المذهب الحنفي
مع تأملات في ضوابط المفتى به

تأليف أ.د. سائد بكداش

Read Online
 تكوين المذهب الحنفي   -   مذھب حنفی سےمتعلق دو اہم سوالات
9mb
-------------
يبحث الكتاب مسألة إطلاق "المذهب الحنفي" كونه لم يقف عند أقوال الإمام أبي حنيفة الخاصة بل تعدى إلى أقوال تلاميذه كأبي يوسف ومحمد بن الحسن وزُمر، فتناول تاريخ حصول هذا الدمج بين الأقوال والكتب التي حصل فيها ذلك أو لم يحصل، والمطوَّلة منها أم المختصرة، والشروح، وما هو المعتمد منها، والزمن الذي استقر فيه الدمج وتأصَّل وانتشر، وسببه، وضوابطه، وهل هو صحيح أم لا؟ وهل يحتاج الأمر إلى إعادة نظر في الإطلاق؟ والجواب العلمي المحقق في ذلك، وهل من فائدة للخلاف الحاصل أم لا؟.
بواسطه اخي عبد المجيد 
---------------
مع تعارف و تلخيص الكتاب في لغة الاردية.

 . وفاق المدارس العربية پاكستانمذھب حنفی سےمتعلق دو اہم سوالات ۔۔مولانا  سمیع اللہ سعدی.

Thursday, 23 March 2017

اللباب في شرح الكتاب (شرح القدوري) - عبد الغني المیداني - ت د. سائد بكداش

  اللباب في شرح الكتاب
 (شرح مختصر القدُوري) 1-6

الشيخ عبد الغني الغنيمي الميداني

تحقيق: الدكتور سائد بكداش 

الطبعة الثانية - ١٤٣٥ھ - ٢٠١٤ء

دار البشائر الاسلامية – دار السراج
                                                                        26 MB          641 KB
      12MB             14MB                       14MB               13MB 
------------------

صدر ـ بتوفيق الله وعونه محقَّقاً لأول مرة بجهدٍ كبيرٍ على اثنتي عشرة نسخة مخطوطة ـ كتابُ: (مختصر القدوري)، للإمام القدوري، المتوفى سنة 428هـ، رحمه الله تعالى،
وهو عمدة مذهب الحنفية. مع تحقيق نادرٍ لأول مرة على سبع نُسَخٍ  لشرحه المعتمد المشهور: 
(اللباب في شرح الكتاب). للعلامة الشيخ عبد الغني الميداني الدمشقي، تلميذ ابن عابدين، 
المتوفى سنة 1298هـ، رحمه الله تعالى.
(بتحقيق الأستاذ الدكتور/ سائد بكداش) عضو هيئة التدريس في جامعة طيبة بالمدينة المنورة

وقد صدر في ست مجلدات،

الأول منها جاء في خمسمائةٍ وستين صفحة، تضمَّن دراسة موسَّعة عن مختصر القدوري، وشرحه اللباب، 
مع ترجمةٍ للقدوري، وترجمةٍ أخرى نادرةٍ للميداني، 
وذِكْر مائةٍ واثنين وعشرين شرحاً وعملاً علمياً على القدوري، مع ذِكر مقدمةِ مؤلِّفيها، وبيان مخطوطها ومطبوعها، 
مع ترجمة لطيفة للكتب والأعلام المذكورين في اللباب، لئلا تُثقل بها حواشي اللباب.

ثم جاء اللباب مشرقاً في أربع مجلدات،

وجُعل مختصر القدوري المضمَّن في شرحه اللباب بلون أحمر جميل، مع تحقيقٍ نادرٍ لنصه ونقوله، والعناية التامة بتخريج أحاديثه، والتعليق الفقهي الدقيق المناسب، والاهتمام البالغ بتفقير نصِّه؛ ليساعد على إدراكه وفهمه.

ثم جاء المجلد السادس ليضمَّ مختصر القدوري كاملاً مفقَّراً متتالياً، كما أراد مؤلِّفُه، بدون أي تعليق، وقد جاء في أربعمائة صفحة، وفي كل صفحة نحو ثلاثين مسألة، وبذلك يكون عدد مسائل القدوري اثنتي عشر ألف مسألة. وهذه الطبعة بحُلَّتها المشرقة البهية وهي الطبعة الأُولى الفريدة المحققة لكلٍّ من مختصر القدوري، واللباب،
قد صدرت عن (دار السراج) بالمدينة المنورة
بواسطه اخي شوكت على. في موقع ارشيف ..

Sunday, 26 February 2017

تعارف ، تلخيص - تكوين مذهب الحنفي سائد بكداش - اردو


مذہب حنفی سے متعلق دو اہم سوالات 
مفتیان کرام کے لئے تحقیقی مضمون
----------------
دکتور سائد بکداش کی کتاب ۔تکوین المذھب الحنفی۔ کا تعارف و تلخیص 




۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ مضمون مضمون وفاق المدارس کے شمارہ میں شائع ہوا ۔ 

اس میں اس کا تعارف اور تلخیص کچھ حد تک موجود ہے ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[​IMG] 
[​IMG] [​IMG] 
[​IMG] 
[​IMG] 
[​IMG]

[​IMG] 
[​IMG]

Friday, 30 December 2016

مختصر القدوري بتحقيق سائد بكداش (بدون تعليق)

مختصر القدوري بتحقيق د.سائد بكداش (بدون تعليق)
طبعه الثانية ١٤٣٥ه
دار البشائر الاسلامية . دار السراج



Download- 9mb  - التحميل 


صدر ـ بتوفيق الله وعونه محقَّقاً لأول مرة بجهدٍ كبيرٍ على اثنتي عشرة نسخة مخطوطة ـ كتابُ: (مختصر القدوري)، للإمام القدوري، المتوفى سنة 428هـ، رحمه الله تعالى، وهو عمدة مذهب الحنفية. مع تحقيق نادرٍ لأول مرة على سبع نُسَخٍ  لشرحه المعتمد المشهور: (اللباب في شرح الكتاب). للعلامة الشيخ عبد الغني الميداني الدمشقي، تلميذ ابن عابدين، المتوفى سنة 1298هـ، رحمه الله تعالى. (بتحقيق الأستاذ الدكتور/ سائد بكداش) عضو هيئة التدريس في جامعة طيبة بالمدينة المنورة وقد صدر في ست مجلدات، الأول منها جاء في خمسمائةٍ وستين صفحة، تضمَّن دراسة موسَّعة عن مختصر القدوري، وشرحه اللباب،
ثم جاء المجلد السادس ليضمَّ مختصر القدوري كاملاً مفقَّراً متتالياً، كما أراد مؤلِّفُه، بدون أي تعليق، وقد جاء في أربعمائة 
صفحة، وفي كل صفحة نحو ثلاثين مسألة، وبذلك يكون عدد مسائل القدوري اثنتي عشر ألف مسألة
وهو هذا.......
بواسطة اخي (جزاه الله خيرا) في موقع ارشيف 
.................

دکتور سائد بکداش عرب کے مشہور محقق عالم ہیں ۔وہ مشہور محقق عالم شیخ محمد عوامہ حفظہ اللہ کےشاگر ہیں اور غالباََ داماد بھی ہیں ۔
وہ فقہ حنفی کی بعض کتب پر تحقیق کر کے شائع کر چکے ہیں ۔۔۔انہوں نے مختصر القدوری کو مع اس کی شرح اللباب فی شرح الکتاب ، عبد الغنی المیدانیؒ جو علامہ شامیؒ کے شاگرد ہیں ۔۔۔پر تحقیق کی ۔
مختصر القدوری کے ۱۲ مخطوطات اور شرح اللباب کے ۷ مخطوطات کو سامنے رکھ کر شائع کیا ۔
اس میں پہلی جلد صرف دراسہ پر مشتمل ہے جس میں امام قدوریؒ ، مختصر القدوری ، اللباب اور مصنف کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کئے ہیں ۔ یہ کتاب کل ۶ جلدوں میں ہے ۔
اس کی آخری جلد میں مختصر قدوری کا متن جو بغیر تعلیق کے ہے شائع کیا ہے ۔
اسی مختصر قدوری جو بغیر تعلیق کے ہے کو ایک بھائی نے آرکائیو میں اپلوڈ کیا ہے ۔
اوپر اسی کا لنک ہے ۔

Wednesday, 18 May 2016

سورۃ یٰس صبح یا شام کو پڑھنے کی فضیلت



سورۃ یٰس صبح یا شام کو پڑھنے کی فضیلت سے متعلق حدیث صحیح اور قابل عمل ہے 
 تصحيح حديث في فضل قراءة سورة يس
------------------

بلغَني أنَّ رسولَ اللَّهِ - صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ - قالَ : مَن قرأَ يس في صدرِ النَّهارِ ؛ قُضِيَت حوائجُهُ
ترجمہ :عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے دن کی ابتدا میں سورۃ یٰسین تلاوت کی اسکی حاجتیں پوری کر دی جاتی ہیں .
(سنن الدارمی: ۲/٤٥٧، کشف الخفاء: ۲/٣۹۰)
 : ۲١٧٧
یہ روایت مرسل حسن ہے ۔
---------------------------------

سورۃ یس کی صبح یا رات  میں پڑھنے کی فضیلت سے متعلق اس باب میں روایت قابل قبول ہے ۔

حدثنا الوليد بن شجاع قال: حدثني أبي قال: حدثني زياد بن خيثمة، عن محمد بن جحادة، عن عطاء بن أبي رباح  قال :بلغني أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: من قرأ يس في صدر النهار قضيت حوائجه

جس شخص نے دن کے ابتدائی حصہ میں سورت یٰس پڑھی اس کی حاجتیں پوری کی جاتی ہیں

دارمی مع الشرح فتح المنان ۱۰۔۵۲۸
المشکاۃ مع الشرح مرقاۃ ۵۔۶۴
-------------------
اہل حدیث عالم شارح المشکاۃ مولانا عبید اللہ مبارکپوریؒ حضرت عطاؒ کی مرسل کی شرح میں
  مرعاة المفاتيح ۷۔۲۵۳ پہ فرماتے ہیں
اس سند كے رجال ثقہ ہیں سوائے شجاع بن الولید کے ۔۔۔اور وہ
 ’’صدوق ورع له اوهام..كذا في التقريب‘‘ 
ہے ۔۔۔
اور اس باب میں ابن عباسؓ سے ابی الشیخ میں حدیث مروی ہے ۔ان الفاظ کے ساتھ
’’.......................ومن قرأها في صدر النهار و قدمها بين يدى حاجته قضيت .‘‘
شیخ مبارکپوریؒ نے معلوم نہیں کہاں سے نقل کیا ہے ۔ یہ روایت یقیناََ ابی الشیخؒ کی مشہور کتاب ثواب الاعمال میں ہوگی ۔ جو 
کہ مخطوط ہے ۔ يا ان كی فضائل القرآن پہ بھی کتاب ہے ۔

بہر حال اس سے ملتی جلتی اور کچھ اور روایات یہ ہیں ۔
سنن دارمی میں عطاء  ؒ کی اس مرسل روایت کے بعد حضرت ابن عباسؓ کی موقوف روایت ہے ۔

حدثنا عمرو بن زرارة ثنا عبد الوهاب ثنا راشد أبو محمد الحماني عن شهر بن حوشب قال قال ابن عباس : من قرأ يس حين يصبح أعطي يسر يومه حتى يمسي ومن قرأها في صدر ليلة أعطي يسر ليلته حتى يصبح

جو صبح کے وقت سورۃ یس پڑھے گا شام تک دن آسانی سے گزرے گا ، اور جو رات کو پڑھے گا صبح تک اس کی رات آسانی سے گزرے گی۔
سنن دارمی مع شرح فتح المنان۔۔۔ج۱۰ص ۵۲۹

اس کی سند حسن درجے کی ہے ۔
اس کے راوی یہ ہیں ۔
۱۔ عمرو بن زرارة
یہ ثقہ ثبت راوی ہیں ۔
بخاری و مسلم کے راوی ہیں ۔ اور دارمی کے شیخ ہیں ۔
سیر اعلام النبلا ۔۔۱۱۔۴۰۶
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۔ عبد الوهاب بن عطاء البصري الخفاف
ان کی بھی اکثر محدثین توثیق کرتے ہیں ۔ بعض جرح کرتے ہیں ۔
یہ صحیح مسلم کے راوی ہیں ۔

ذہبیؒ فرماتے ہیں ۔۔۔سیر اعلام النبلا ۹۔۴۵۱
الإمام الصدوق العابد المحدث 
يحيى بن سعيد القطانؒ ،یحیی بن معینؒ ،  ابن سعدؒ ، الدارقطنیؒ .
وغیرہ توثیق کرتے ہیں ۔
امام احمدؒ  اور بخاریؒ سے اقوال مختلف ہیں ۔
ذہبیؒ آخر میں فرماتے ہیں
قلت: حديثه في درجة الحسن.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۳۔ راشد أبو محمد الحماني
تابعی ہیں ۔ حضرت انسؓ سے روایت کرتے ہیں ۔
ابو حاتمؒ ، ذہبیؒ ، الہیثمیؒ ، ابن حجرؒ ان کی توثیق کرتے ہیں۔
امام بخاریؒ ادب المفرد میں ان سے روایت کرتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۴۔ شهر بن حوشب
کبار تابعین میں سے ہیں ۔بہت سے جلیل القدر صحابہؓ سے روایت کرتے ہیں ۔ مثلاََ ام المؤمنین عائشہؓ و ام سلمۃؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، ابی سعید خدریؓ ، ابو ہریرۃؓ اور بہت سے صحابہؓ۔۔
انہوں نے قرآن ابن عباس ؓ سے پڑھا۔
بقول ذہبی ؒ حضرت بلالؓ ، ابو ذرؓ ، سلمانؓ اور کئی اورصحابہؓ سے مرسلاََ بھی روایت کرتے ہیں ۔
امام احمدؒ ان کی توثیق کرتے ہیں ۔امام یحیی بن معین ؒثبت کہتے ہیں۔
امام ترمذیؒ ۔۔امام بخاریؒ سے نقل کرتے ہیں  کہ وہ حسن الحدیث ہیں۔(سیراعلام)
سنن ترمذی (تحقیق شاکر ۴۔۴۳۴)میں اس طرح ہے ۔
وسألت محمد بن إسماعيل عن شهر بن حوشب فوثقه
صحیح مسلم میں بھی ان کی حدیث مقروناََہے ۔
معمولی جرح بھی ہے ان پر۔ذہبیؒ فرماتے ہیں
الرجل غير مدفوع عن صدق وعلم والاحتجاج به مترجح
ذہبیؒ خود بھی سیر اعلام النبلا ۲۔۳۰۹ پہ شھر من حوشبؒ کی سند سے روایت کر کے فرماتے ہیں
وهو حديث حسن صحيح الإسناد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الغرض یہ حسن سند ہے ۔
دارمی کے الگ الگ محققین بھی اس کو حسن ہی کہتے ہیں ۔

یہ روایت اگرچہ موقوف ہے ۔لیکن حکماََ مرفوع ہے ۔
اس جیسی روایت کے حکماََ مرفوع ہونے کے بارے میں  جیسا کہ آگے حافظ ابن حجرؒ کے حوالے سے آئے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور اس کی تائید الضحاک عن ابن عباسؓ کی روایت سے بھی ہوتی ہے کہ
الماوردي ۴۵۰ھ ۔۔۔۔تفسیر النکت والعیون۔۔۔۔۔ج۵ص۳۵
وروى الضحاك عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (إن لكل شيءٍ قلْباً وإنَّ قلْبَ القرآن يس , ومن قرأها في ليلة أعطي يُسْر تلك الليلة , ومن قرأها في يوم أعطي يُسْرَ ذلك اليوم , وإنّ أهل الجنة يرفع عنهم القرآن فلا يقرأون منه شيئاً إلا طه ويس).
اس کی سند نقل نہیں کی لیکن ظاہر یہی ہے کہ  ۔۔الضحاك بن مزاحم ۱۰۵ھ ۔۔کی تفسیر سے نقل کر رہے ہیں ۔ جس کی روایات  ابن عباس ؓ سے مشہور ہیں ۔ 
اور بعض علماء کے نزدیک یہ تفسیر انہوں نے سعید بن جبیرؒ کے زریعے سے حاصل کی ۔
امام یحیی بن معینؒ اور امام احمدؒ ان کی توثیق کرتے ہیں ۔۔جیسا کہ سیر اعلام النبلا ۴۔۵۹۸میں ہے ۔
اس لئے تائید میں کوئی حرج نہیں ۔واللہ اعلم

شرح دارمیؒ کے مؤلف..... عطاؒکے اثر ’’ بلغنی ان رسول الله ﷺ ‘‘ کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ
لعل المبلغ له ابن عباسؓ فانه معروف بالرواية عنه....
پھر انہوں نے اس سے بعد والے ابن عباسؓ کے اثر کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ جو کہ اوپر نقل ہوا ۔
اور شیخ مبارکپوریؒ نے ابی الشیخ کی روایت  کی طرف اشارہ کیا وہ بھی ابن عباسؓ کی تھی ۔
ایک اور تابعی کا اثر بھی اسی طرح کا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ھ۱۳۲ھ۔يحيى بن أبي كثير اثر تابعی ۔۔
جس شخص نے سورہ یس صبح کے وقت پڑھی وہ شام تک خوش رہے گا، اور جس نے شام کے وقت پڑھی وہ صبح تک خوش رہے گا، پھر کہا: ہمیں اُس نے بتایا ہے جس نے خود اسکا تجربہ کیا
ابن ضریس 294ھ ۔۔۔۔فضائل القرآن ۔ح۔۲۲۰
الثعلبی 427ھ ۔۔۔۔۔۔۔تفسیر۔۔ص ۱۱۹۔ ج ۸
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضر ت عطاؒ کی مرسل اور اثر یحییؒ  جیسی روایات  کے بارے میں حافظ ابن حجرؒ کی نتائج الافکار سے کچھ نقل کرتا ہوں ۔

حضرت ابو ہریرہؓ کی سورہ یس دن اور رات کو پڑھنے پر مغفرت کی فضیلت والی حدیث کے طرق پر بحث کرتے ہوئے حافظ ابن حجرؒ نے نتائج الافکار ۳۔۲۵۷ پہ حدیث کو حسن فرماتے ہوئے دارمی کی ایک سند کا ذکر کرتے ہوئے
وأخرجه الدارمي أيضاً عن محمد بن المبارك، عن صدقة بن خالد، عن يحيى بن الحارث، عن أبي رافع، فذكره مقطوعاً،
آگے فرمایا ہے ۔
ومثله لا يقال من قبل الرأي، فله حكم المرفوع.
یعنی اس جیسی بات رائے سے نہیں کہی جاسکتی بلکہ اس کا حکم مرفوع کا ہوگا۔
اسی طرح کسی اور سورۃ کی فضیلت کی ایک حدیث کے ذیل میں ۵۔۴۹ پہ فرماتے ہیں
هذا إسناد مقطوع، وله حكم المرفوع المرسل؛ إذ لا مجال للاجتهاد فيه
جب  یہ مقطوع کے بارے میں ہے تو ۔۔موقوف روایت تو بدرجہ اولیٰ اس کی مستحق ہے   ۔ اس لئے بھی کہ یہ مرفوع بھی مروی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابن کثیر نے سورہ یس کے فضائل کی روایات بیان کر کے آخر میں فرمایا ہے  ۔

ولهذا قال بعض العلماء : من خصائص هذه السورة : أنها لا تقرأ عند أمر عسير إلا يسره الله .
اسی لئے بعض علما فرماتے ہیں کہ اس سورت کے خصائص میں سے ہے کہ مشکل امر میں اس کی تلاوت سے اللہ تعالیٰ آسانی فرماتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس طرح کی حضرت ابن عمرؓ کی مرفوع صحیح حدیث بھی ہے ۔
المستغفری ۴۳۲ھ۔۔۔۔فضائل القرآن  ۲۔۵۹۵ ۔۔۔۔۔۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن بكر بن خلف، حَدَّثَنا أبو نعيم عبد الملك بن أحمد بن عدي، حَدَّثَنا محمد بن عوف الحمصي، حَدَّثَنا أبو بكر محمد بن خالد البصري قال: وهذا أقدم من كتبنا عنه، حَدَّثَنا خالد بن سعيد بن أبي مريم عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من قرأ {يس} فكأنما قرأ القرآن عشر مرات، وَمن قرأها ليلا أعطي يسر ليلته، وَمن قرأها نهارا أعطي يسر نهاره.
اس کے راوی یہ ہیں۔
۱۔ أبو بكر محمد بن بكر بن خلف ٣٨٠ھ
شيخا صالحا (الانساب السمعانی۔۔۱۳۔۳۱۹)
۲۔ أبو نعيم عبد الملك بن أحمد بن عدي
عبد الملك بن محمد بن عدي الحافظ الحجة أبو نعيم الجرجاني ۳۲۳ھ
امام حافظ کبیر ثقہ  (سیر اعلام النبلا ۱۴۔ ۵۴۱)
۳۔ محمد بن عوف الحمصي ۲۷۲ھ
ثقہ ہیں ۔
(تهذيب الكمال ۲۶۔۲۳۶ ،  سیر اعلام النبلا ۱۲۔۶۱۳)
۴۔ أبو بكر محمد بن خالد البصري
ان سے مراد ان دو راویوں میں سے کوئی ہے ۔ دونوں ثقہ ہیں ۔
محمد بن خالد بن عثمة البصري ہیں جو کہ صدوق ہیں (التھذیب ابن حجر ۹۔۱۴۲۔۔۔۔۔الکاشف ۲۔۱۶۷)
یا
مُحَمَّد بن خالد بن خداش بن عجلان المهلبي مولاهم، أبو بكر الضرير البصري سكن بغداد
صدوق ۔ربما أغرب عن أبيه
(الثقات ٩۔١١٣...تهذیب الکمال ۲۵۔۱۳۵۔ التھذیب ابن حجر ۹۔۱۴۰)
۵۔ خالد بن سعيد بن أبي مريم
ثقہ (تهذيب الكمال ۸۔۸۳ ،   الکاشف لذہبی ۱۔۳۶۵)
۶۔ نافع ۱۱۷ھ
۷۔ ابن عمرؓ

محقق فضائل القرآن المستغفری نے خالد بن سعید بن ابی مریم ؒ کے متعلق اعتراض کیا ہے کہ وہ اس میں متفرد ہیں ۔۔ اور کسی راوی پہ اعتراض نہیں کیا ۔
خالد بن سعيد بن أبي مريم المدنیؒ ثقہ ہیں ۔
بعض محدثین نے جہالت کا اعتراض کیا ہے  ۔ابن المدینی ؒ اور ابن قطانؒ جوکہ ظاہر ہے قابل قبول نہیں ۔کیونکہ ابن حبانؒ ، الذہبیؒ نے توثیق کی ہے ۔
اسی لئے خالد پر واحد جرح کرنے والے عقیلیؒ نے بھی ان پر جہالت کا اعتراض نہیں کیا ۔انہوں نے جو جرح کی ہے  صحیح نہیں ۔ایک تو انہوں نے اور کسی سے جرح نقل نہیں کی ۔۔۔بس یہ کہا ہے کہ
لا يُتابَع على حَديثه
اور مثال میں سورۃ بقرۃ کی فضیلت والی حدیث نقل کی
سَهل بن سَعد، قال: قال رسول الله صَلى الله عَليه وسَلم: إِن لكُل شَيء سَنامًا، وإِن سَنام القُرآن سُورَة البَقَرَة۔۔۔۔۔۔۔
پھر فرمایا
وفي فَضل سُورَة البَقَرَة رِوايَة أَحسَن مِن هَذا الإِسناد وأَصلَح, بِخِلاف هَذا اللَّفظ، وأَما في تَمثيل القُرآن فليس فيه شَيء يَثبُت مُسنَدًا
یعنی ایک اور روایت اس میں مروی ہے اور اس سند سے زیادہ اچھی ہے ۔
اور تمثیل القرآن میں مسنداََ کچھ ثابت نہیں ۔۔۔
حالانکہ تمثیل القرآن سے متعلق
حاکم۱۔۷۴۸
پہ عبد اللہ بن مسعودؓ کی صحیح سند سے مرفوع اور موقوف دونوں طرح مروی ہے ۔
اور کئی شواہد بھی ہیں اس کے ۔
اور صحیح ابن حبانؒ ۳۔۵۹ پہ حافظ ابن حبانؒ نے باب ہی اسی عنوان سے قائم کیا ہے
ذِكْرُ تَمْثِيلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ مِنَ الْقُرْآنِ بِالسَّنَامِ مِنَ الْبَعِيرِ
اور خالد بن سعیدؒ کی روایت نقل کی ہے ۔ جس پر عقیلیؒ  نے اعتراض کیا ہے ۔
اورابن حبانؒ نے خالد کو الثقات ۶۔۲۶۰ میں بھی ذکر کیا ہے ۔
الغرض عقیلیؒ کی جرح صحیح نہیں ۔
اور شاید عقیلیؒ کی جرح اور دوسرے  محدثین کی جہالت کے اعتراض سے حافظ ابن حجرؒ نے جو تقریب میں  صرف مقبول کہا ہے وہ بھی درست معلوم نہیں ہوتا۔
الذہبیؒ نے الکاشف پہ ان کو واضح ثقہ فرمایا ہے ۔
اور ان کے شیخ المزیؒ کے طرز سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کیونکہ انہوں نے نہ ہی عقیلیؒ  کا اعتراض نقل کیا نہ ہی جہالت کا اعتراض نقل کیا ۔ البتہ ابن حبانؒ کا ثقات میں ذکر کرنے کا کہا۔اور یہ بھی فرمایا کہ ابوداودؒ اور ابن ماجہؒ نے ان سے روایت نقل کی ہے ۔
الغرض یہ روایت صحیح ہے ۔
ورنہ حسن سے کم نہیں۔
اور اس کو ابن عباسؓ کی روایت سے مزید تقویت ملتی ہے ۔

چناچہ سورۃ یٰس صبح یا رات کو پڑھنے کی فضیلت صحیح ہے ۔اور فضائل اعمال میں تو بد رجہ اولیٰ صحیح ہے ۔

 اللہ تعالیٰ کوئی کمی کوتاہی ہو تو درگزر فرمائے۔آمین۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اخبار الكتب - المواهب اللطيفہ شرح مسند ابی حنیفہ۔عابد سندیؒ



اخبار الكتب - المواهب اللطيفہ شرح مسند ابی حنیفہ- عابد سندیؒ
--------------------
امام ابو حنیفہؒ کی مسانید بیسیوں ہیں ۔ اور ان پر ۔۔۔اور حدیثی کام اس کے علاوہ ہیں ۔
ان کی مسانید میں سب سے زیادہ مشہور ، مستند ۔۔۔امام حافظ عبد اللہ الحارثی البخاریؒ کی مسند امام اعظم ہے ۔
 اس پر بھی اگرچہ کئی طرح کام ہوا ہے ۔ لیکن اس کا ایک اختصار جو الحصکفیؒ نے کیا بہت مشہور ہے ۔

اگرچہ مسند الحصکفیؒ ۔۔۔مسند الحارثیؒ کا ہی اختصار ہے لیکن انہوں نے کچھ وہ روایات جو امام حماد بن ابی حنیفہؒ نے اپنے والد سے روایت کی ہیں ۔۔۔وہ بھی اس میں لی ہیں ۔۔۔
وہ انہوں نے یا تو مسند امام اعظمؒ ابن خسروؒ سے لی ہیں 
یا براہ راست مسند حماد بن ابی حنیفہؒ جو کہ دراصل کتاب الآثار کا ہی نسخہ ہے ۔۔۔سے لی ہیں۔
 مسند الحصکفیؒ کی دو شروح شائع ہو چکی ہیں ۔ 
ایک امام ملا علی قاریؒ کی ۔۔۔۔سند الانام 
دوسری مولانا محمد حسن سنبھلیؒ کی۔۔۔تنسیق النظام

ايك اور شرح جو عرصہ دراز سے مخطوط تھی اور ان دونوں شروح سے زیادہ بڑی تھی ۔۔۔اور کئی علما کے نزدیک بہت زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔اب مولانا تقی الدین ندوی صاحب کی تحقیق سے دار النوادر سے ۷ جلدوں میں شائع ہو گئی۔
ؒالمواهب اللطيفة شرح مسند الإمام أبي حنيفة - شيخ محمد عابد السندي

مولانا عبد الرشید نعمانیؒ کے مطابق فتح الباری ابن حجرؒ کے بعد اس شان کی شرح نہیں لکھی گئی۔۔۔
 مسند الحصکفی میں غالباََ ساڑھے پانچسو تک احادیث ہوں گی ۔۔ اور اس کی اتنی ضخیم شرح ۔۔۔ 

متابعات و شواہد ، تخریج احادیث ، وصل منقطع ، نیز سند اور متن سے متعلق تمام چیزوں کا حل ۔۔۔

اور اس کے علاوہ متن کی جامع شرح ۔۔۔

پورا تعارف تو پڑھ کر ہی کروایا جا سکتا ہے ۔۔۔ 
ابھی تو مولانا تقی الدین ندوی صاحب حفظہ اللہ نے تحقیق تخریج و تعلیق مختصر کی ہے 
شاید اس لئے کہ حجم مزید نہ بڑھ جائے ورنہ شیخ سائد بکداش کی  تحریر پڑھ کر تو لگتا ہے کہ
اگر اس شرح کو مکمل تحقیق تخریج و تعلیق سے مزین کر کے شائع کیا جائے تو ۱۰ سے زیادہ جلدیں ہو جائیں



ایک بھائی ابو تراب علی رضا صاحب (اللہ ان کو جزائے خیر دے ) اس کے مثال کے طور پہ
كچھ صفحات اپلوڈ کئے ہیں جس میں محقق کا مقدمہ ۔ شیخ عابد کا ۲ صفحات کا مقدمہ  (اس میں واحد یہی تشنہ پہلو ہے کہ شیخ عابد سندیؒ نے اس کا مقدمہ نہیں لکھا ۔جیسے علامہ سنبھلیؒ نے لکھا یا جیسےحافظ ابن حجر ؒ کا مقدمہ) اور پہلی حدیث کی تھوڑی سی شرح شامل ہے ۔
Download - مواہب اللطیفہ ۴۰ صفحات

(نوٹ ۔ یہ تحریر ۲۰۱۶ کی ہے پھر یہ کتاب پوری اپلوڈ ہوگئی اور یہاں موجود ہے )