Saturday, 14 April 2018

کیا فقہ حنفی کا مدار صرف حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی فقہ پر ہے ؟ کیا حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ۔۔۔تطبیق کے منسوخ ہونے سے واقف نہیں تھے؟


کیا فقہ حنفی کا مدار صرف حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی فقہ پر ہے ؟
کیا حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ۔۔۔تطبیق کے منسوخ ہونے سے واقف نہیں تھے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ کوئی قاعدہ کلیہ حصر کے ساتھ نہیں ہے کہ کہ فقہ حنفی کا مدار عبداللہ بن مسعودؓ کی فقہ پر ہے ۔بیشک اُن کی اکثر آراء پر ضرور ہے ۔
اسی طرح بعض علماء کو یہ غلط فہمی رہی ہے  کہ شاید  فقہ حنفی ساری ابراہیم نخئیؒ  کی آراء پر مشتمل ہے ۔ 
جیسا کہ شاہ ولی اللہ ؒ کے قول سے محسوس ہوتا ہے ۔ ایسا بھی نہیں ہے ۔
جب صاحب مذہب  امام ابوحنیفہؒ مجتہد ہیں ۔ اور خود اُن کی تصریحات اس بارے میں موجود ہیں  ۔ 
مثلاََ
مشہور روایت جو اُن کے کم ازکم ۶ شاگردوں نے روایت کی ہے کہ جس میں امام صاحبؒ  اپنے اصول بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ۔قرآن و سنت کے بعد  وہ صحابہؓ کے قول پر عمل کرتے ہیں ۔اور صحابہؓ کے مختلف اقوال میں سے اختیار کرتے ہیں ۔ اور تابعین ابراہیم ؒ ، شعبیؒ ، حسنؒ ، ابن سیرین ؒ ،عطاءؒ ، سعیدؒ ، وغیرہ   تک بات آئے تو جیسے وہ اجتہاد کرتے ، امام صاحب بھی اجتہاد کرتے ۔
دوسری روایت  میں اپنے علم کا ماخذ  خلیفہ وقت کے سامنے بتاتے ہیں۔۔
أبي حنيفَة قَالَ دخلت على أبي جَعْفَر أَمِير الْمُؤمنِينَ فَقَالَ يَا ابا حنيفَة عَمَّن أخذت الْعلم قلت عَن حَمَّاد عَن ابراهيم عَن أَصْحَاب عمر بن الْخطاب وَعلي بن أبي طَالب وَعبد الله بن مَسْعُود وَعبد الله بن عَبَّاس رَضِي الله عَنْهُم
قَالَ بخ بخ استوثقت مَا شِئْت يَا أَبَا حنيفَة
یعنی ابوحنیفہؒ خلیفہ ابوجعفر کے پاس آئے تو اس نے پوچھا ۔ ابوحنیفہؒ آپ نے کس سے علم حاصل کیا ہے ۔
امام صاحبؒ بولے ۔حماد اور ابراہیم کے واسطہ سے  اصحاب عمرؓ ۔ علیؓ ۔ عبداللہ بن مسعودؓ اور عبداللہ بن عباسؓ  کا علم ۔
اس پروہ متاثر ہوا اور  اس نے تعریف کی ۔
اور ائمہ ثلاثہ کی  کتب احادیث و فقہ انہی اقوال کی تائید کرتے ہیں ۔
بلکہ یہ ۴ صحابہؓ جن کا اوپر نام لیا ہے ۔ یہ بقول شاہ ولی اللہ ؒ ۔۔ کثیر الفتاوی ہونے میں سب سے ممتاز تھے ۔ ان کے علاوہ بھی  فقہ حنفی  میں دوسروں کے نسبت  ہر علاقے کے سب سے زیادہ صحابہؓ کے اقوال وا ٓثار پر عمل کیا جاتا ہے ۔  
یہاں تاریخ تدوین حدیث ، مولانا عبدالرشید نعمانیؒ سے کچھ عبارت ملاحظہ کریں ۔


------------------------------
یہ غلط فہمی کئی حضرات کو رہی  ہے  کہ شاید امام صاحب اور فقہ حنفی صرف حضرت عبداللہؒ کی ہی فقہ پر مشتمل ہے ۔یا
 حضرت علیؓ۔کیونکہ کوفہ کا زیادہ  علم حضرت علیؓ اور حضرت عبداللہ ؓ ہی کا ہے ۔ ایسا اکثری ہے کُلی نہیں ۔
مشہور شافعی محدث محمد بن نصر مروزی ۲۹۴ھ نے بقول ذہبیؒ  ایک کتاب  ہی اسی موضوع پر لکھی ہے کہ وہ مسائل جس میں ابوحنیفہ نے علیؓ اور عبداللہ ؓ سے اختلاف کیا ۔۔۔وصنف كتابا فيما خالف أبو حنيفة عليا وابن مسعود 

مشہور محدث امام اعمشؒ نے بھی ایک موقع پر امام ابویوسفؒ سے پوچھا ۔ تمہارے صاحب (یعنی ابو حنیفہ) نےعبداللہ بن مسعودؓ کا قول کیوں ترک کر دیا ”باندی کی آزادی اس کے حق میں طلا ق ہے “
 امام ابو یوسف نے جواب اس حدیث کی وجہ سے جو آپ نے ہی روایت کی ہے ۔
اعمشؒ بولے کونسی حدیث؟
ابویوسفؒ بولے آپ نے  ابراہیمؒ سے انہوں نے اسودؒ سے ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے 
 روایت کی ہے کہ بریرۃَؓ کو جب آزادی حاصل ہوئی تو انہیں اختیار دیا گیا تھا۔
ہیں اور بہت پسند کیا ، دوسری روایت میں ہے کہ انہوں نے یہیہ جواب سن کر امام اعمش بولے ’’بے شک ابو حنیفہؒ تو فقیہ

  فرمایا ابوحنیفہ حدیث کے موقع ومحل کو خوب اچھی طرح جانتے
ہیں اور اس میں بڑا شعور رکھتے ہیں ۔

(اخبار ابی حنیفہ واصحابہ، صیمری ۲۶ ، انتقاء ابن عبدالبر ۱۴۷)

یہ تو مناقب و تاریخ کی کتب میں ہے ۔ کتاب الآثار،امام ابوحنیفہ ۔بروایت محمد میں بھی ایسا ہی ہے ۔
محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن ابن مسعود رضي الله عنه في المملوكة تباع ولها زوج, قال: بيعها طلاقها.

قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا, ولكنا نأخذ بحديث رسول الله صلى الله عليه وسلم حين اشترت عائشة رضي الله عنها بريرة, فأعتقتها فخيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أن تقيم عند زوجها, أو تختار نفسها, فلو كان بيعها طلاقها ما خيرها.
وبلغنا عن عمر, وعلي, وعبد الرحمن بن عوف, وسعد بن أبي وقاص, وحذيفة أنهم لم يجعلوا بيعها طلاقها, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله.
یعنی حضرت ابن مسعودؓ کا قول نقل کرکے اس کی شرح میں امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ ہم اُن کے قول کو اختیارنہیں کرتے حضرت بریرہؓ والی حدیث کی وجہ سے ،
اور ہمیں حضرت عمرؓ ، حضرت علیؓ ، عبد الرحمٰن بن عوفؓ ، سعد بن ابی وقاصؓ اور حذیفہؓ سے یہ روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے اس کے بیچنے کو طلاق قرار نہیں دیا ۔

اور یہی امام ابوحنیفہؒ کا قول ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور خاص تطبیق کے مسئلہ میں بھی امام ابوحنیفہؒ نے حضرت عمرؓ ہی کے قول کی وجہ سے حضرت ابن مسعودؓ کے قول پر عمل نہیں کیا ۔

 جیسا کہ کتاب الآثار میں ہے ۔
95 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَا: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذْ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَامَ يُصَلِّي فَقُمْنَا خَلْفَهُ، فَأَقَامَ أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِهِ، ثُمَّ قَامَ بَيْنَنَا، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: هَكَذَا، اصْنَعُوا إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً. وَكَانَ إِذَا رَكَعَ طَبَّقَ وَصَلَّى بِغَيْرِ أَذَانٍ، وَلَا إِقَامَةٍ، قَالَ: «يُجْزِئُ إِقَامَةُ النَّاسِ حَوْلَنَا»
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَسْنَا نَأْخُذُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ۔۔۔۔۔۔بِقَوْلِهِ فِي التَّطْبِيقِ كَانَ يُطَبِّقُ بَيْنَ يَدَيْهِ إِذَا رَكَعَ، ثُمَّ يَجْعَلَهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ، وَلَكِنَّا نَرَى أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَيُفَرِّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ تَحْتَ الرُّكْبَتَيْنِ۔۔۔۔۔۔ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى
96 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " جَعَلَهُمَا خَلْفَهُ، وَصَلَّى بَيْنَ أَيْدِيهِمَا، وَكَانَ يَجْعَلُ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ إبراهيم: صَنِيعُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَحَبُّ إِلَيَّ "
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ صَنِيعِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى
امام محمد ؒ حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کا طرز عمل ہمیں حضرت ابن مسعودؓ کے طرز سے زیادہ پسند ہے ۔اور یہی امام ابوحنیفہ کا قول ہے ۔
ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف فیہ مسائل صحابہؓ میں بھی تھے ۔ اور امام ابوحنیفہؒ نے حضرت ابن مسعودؓ کے قول کو کبھی چھوڑا بھی تو اُن سے زیادہ بڑے صحابہؓ حضرت عمرؓ اور عشرہ مبشرہؓ کے قول پر عمل کیا ۔
اور فقہ حنفی کے اصول میں ایسا ہی ہے ۔
اور اختلاف کرنے کا کیا ہی خوب اور قابل اتباع طریقہ ہے کہ یہ قول ہمیں زیادہ پسند ہے ۔
ادھر تک تو بات اس بارے میں تھی کہ فقہ حنفی کا صرف حضرت عبداللہ ؓ کے اقوال ہی پر مدار نہیں ہے ۔
 بلکہ کئی جگہہ انہوں نے اُن سے اختلاف بھی کیا ہے ۔اسی طرح تابعی ابراہیم نخئؒ سے بھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب حضرت عبداللہ ؓ کے بارے میں وضاحت ۔

آپؓ چونکہ مجتہد صحابہ میں سے  تھے اس لئے اجتہادی رائے مختلف  ہو سکتی ہے ۔ 

اور ہر مسئلہ کی تصریح ہونا کتب میں ضروری نہیں ہے کہ فلاں صحابیؓ سے فلاں مسئلہ ثابت کیا جائے ۔

ہاں اس مسئلہ میں تو ایک روایت مشہور کتب میں موجود ہے جس سے مسئلہ کی وضاحت کی جاسکتی ہے اور ائمہ نے کی بھی ہے ۔
 مثلاََ
امام جصاصؒ نے  شرح مختصر طحاوی ۱۔ ۳۹۹   میں فرمایا ہے ۔۔
فإن قيل: إذا جاز أن يخفى على عبد الله بن مسعود رضي الله عنه نسخ التطبيق، مع عموم الحاجة إليه، ومع قرب محله من النبي صلى الله عليه وسلم، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قيل له: إن عبد الله رضي الله عنه لم يخف ذلك عليه من قول النبي صلى الله عليه وسلم،
ولكن لفظ النبي صلى الله عليه وسلم في ذلك ورد محتملا لهذا المعنى، ومحتملا الترخيص دون النسخ؛ لأنهم لما شكوا إليه التطبيق، قال: "استعينوا بالركب"، فحمله عبد الله رضي الله عنه على الرخصة؛ لأن ظاهره يدل على ذلك، واختار هو لنفسه البقاء على التطبيق، إذ كان أشق عليه، فكان عنده أنه أعظم الأجر.
جس کے مفہوم کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے تطبیق پوشیدہ نہیں رہی ہوگی ۔ بس یہ ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کے قول مبارک میں احتمال سمجھتے تھے کہ اس سے مراد نسخ نہیں بلکہ رخصت ہے ۔اور قول  مبارک بظاہر اسی بات پر دلالت کرتا ہے ۔
البتہ انہوں نے اپنی ذات کے لئے تطبیق کا انتخاب کیا کہ اس میں مشقت زیادہ ہے ۔تو پھر اجر بھی زیادہ ہے ۔
 علامہ عینیؒ نے عمدۃ القاری میں یہی فرمایا ہے حضرت عبداللہؓ ہر وقت نبی کریمﷺ کے ساتھ رہتے تھے اور یقیناََ اُن سے یہ بات مخفی نہیں رہی ہوگی بس یہ ہے کہ اُن کے اجتہاد میں یہ عمل منسوخ نہیں ہوا 
بلکہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ یا تطبیق پر عمل کرلیں یا گھٹنے پکڑنے پر ۔
اورائمہ کے انہی اقوال کی وجہ سے ہی  علماء فرماتے ہیں کہ چونکہ تطبیق میں چونکہ عزیمت ہے اور دوسرے عمل میں 
رخصت تو عبداللہ ؓ اپنے اجتہاد سے اس مسئلہ کو اختیاری سمجھتے ہوئے عزیمت پر عمل کرتے تھے ۔

اس کے اختیاری ہونے کی دلیل مصنف ابن ابی شیبہؒ میں موجود حضرت علیؓ کا قول ہے جس میں انہوں نے فرمایا کہ جب 
رکوع کرو تو اگر چاہو تو گھٹنوں پر ہاتھ رکھ لو ، چاہو تو تطبیق کر لو ۔

2553- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : إذَا رَكَعْتَ فَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ هَكَذَا وَإِنْ شِئْتَ وَضَعْت يَدَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ ، وَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ هَكَذَا. يَعْنِي : طَبَّقْتَ.
مصنف ۲۔۴۳۹
بقول حافظ ابن حجرؒ و علامہ عینیؒ اس اثر کی سند حسن درجہ کی ہے ۔

اور دونوں نے فتح الباری اور عمدۃ القاری میں عبداللہؓ کی طرف سے وضاحت کرتے ہوئے پیش کیا ہے ۔

اور انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ تطبیق کوئی حرام نہیں ہے ، کیونکہ عبداللہ بن مسعودؓ کے شاگرد جنہوں نے حضرت عبداللہ ؓ کے پیچھے تطبیق والی نماز پڑھی پھر حضرت عمرؓ کے ساتھ  بھی پڑھی تو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ہم پہلے ایسا کرتے تھے پھر چھوڑ دیا ۔ اور حضرت عمرؓ نے اُن کو نماز دُہرانے کا نہیں کہا ۔

اور کتاب الآثار میں امام ابوحنیفہؒ اور امام محمدؒ  کا قول بھی ظاہر کرتا ہے کہ  حضرت عمرؓ کا  عمل زیادہ پسندیدہ ہے ۔

اور حضرت علی ؓ اور حضرت ابن مسعودؓ جو کوفہ کے علم کے سب سےبڑے ستون ہیں ۔ان میں سے حضرت علی ؓ کی رائے صاف موجود ہے کہ وہ اس معاملے میں اختیار کے قائل تھے ۔ تو حضرت عبداللہ ؓ کا بھی قول اس معاملے میں اختیار کا ہوگا ۔
جیسا کہ امام جصاصؒ نے شرح مختصر الطحاوی میں ،حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں ،اور علامہ عینیؒ نے عمدۃ القاری میں فرمایا ہے ۔
ومحتملا الترخيص دون النسخ (شرح مختصر الطحاوي) ....... فحمله عبد الله رضي الله عنه على الرخصة
وَهُوَ ظَاهِرٌ فِي أَنَّهُ كَانَ يَرَى التَّخْيِيرَ                                       (فتح الباري) 
             (عمدة القاري)  فَهَذَا ظَاهر فِي أَنه، رَضِي الله تَعَالَى عَنهُ، كَانَ يرى التَّخْيِير
واللہ اعلم۔

No comments:

Post a Comment